کبھی کبھی مجھے کچھ بھی

کبھی کبھی مجھے کچھ بھی بھلا نہیں لگتا
جہاں چلوں وہ مرا راستہ نہیں لگتا

جو میرے ساتھ چلے ہیں وہ میرے ساتھ نہیں
یہ سلسلہ مجھے وہ سلسلہ نہیں لگتا

میں سچ کہوں گا اگر تم مجھے قسم دے دو
میں کچھ کہوں تمہیں بالکل بُرا نہیں لگتا

پہاڑ عمر نجانے کٹے گی بھی کہ نہیں
جلا ہے دل میں دیّہ جو بجھا نہیں لگتا

تمام شہر سے بُو آ رہی ہے مقتل کی
جو جس طرح ہے مجھے اُس طرح نہیں لگتا

حافظؔ زین العٰابدین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان