جانے کیا دل پہ بار ہے ایسا

جانے کیا دل پہ بار ہے ایسا
بے دلی کا شکار ہے ایسا

آگیا ہے تو سیر کرتا چل
یہ گلی ، یہ دیار ہے ایسا

یا شبِ انتظار ہے ایسی
یا مجھے انتظار ہے ایسا

کس پہ کھُلتے ہیں رات کے اَسرار
کون یاں شب گزار ہے ایسا

بھولتے ہی نہیں فراق کے دن
یہ سفر یادگار ہے ایسا

وقت کا پیش رَو ہوں میں غائر
ہر قدم میرا یار ہے ایسا

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا