عقل کی بات سجھائی ہے مجھے

عقل کی بات سجھائی ہے مجھے
دل نے یہ راہ دکھائی ہے مجھے

ملنے آیا ہوں چراغِ شب سے
اور ہَوا چھوڑنے آئی ہے مجھے

خوش ہُوا ہوں تری باتیں سُن کر
کہ پسند اپنی بُرائی ہے مجھے

آنکھ نے خواب دکھائے ہیں بہت
خواب نے سیر کرائی ہے مجھے

تیری دیوار کے سائے سائے
زندگی دھوپ میں لائی ہے مجھے

مسندِ شہرِ سخن ہے درکار
اور نہ درکار خدائی ہے مجھے

کاشف حسین غائر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا