بیٹھے بیٹھے خیال سا آیا

بیٹھے بیٹھے خیال سا آیا
چلنے والوں کے ہاتھ کیا آیا

بچ گئے خواب رائیگانی سے
میں اُسے نیند سے جگا آیا

دن بتانے کو خاک اڑانے کو
میرے حصّے میں راستہ آیا

اِس مسافر کا خیر مقدم کر
زندگی تیرا مبتلا آیا

عمر بھر کھیلتا رہا دل سے
اور اِس کھیل میں مزہ آیا

کاشف حسین غائر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا