عشق میں کانہا کے رادھا یوں ہی دیوانی نہ تھی

عشق میں کانہا کے رادھا یوں ہی دیوانی نہ تھی

پر محبت اس کی دنیا ہی نے پہچانی نہ تھی

آج کہتی ہوں میں کھل کر جو نہیں اب تک کہا

تم سے مل کر میں نے جانا عشق نادانی نہ تھی

اگتے سورج کو ہی دنیاں جھک کے کرتی ہے سلام

بدلے تیور پہ ذرا بھی مجھ کو حیرانی نہ تھی

یوں لگے کی جام نظروں سے تری اس نے پیا

اس سے پہلے تو کبھی رت اتنی مستانی نہ تھی

کس لیے غم میں کروں بولو تو اس پہ دوستوں

تھی خبر مجھ کو جوانی لوٹ کر آنی نہ تھی

تجھ کو چاہا تجھ کو پوجا دیوتاؤں کی طرح

بے وفائی سے میں لیکن تیری انجانی نہ تھی

عیب ہی مجھ میں صدا تم کو نظر آئے فقط

خوبیوں کو پر مری تم جیوتیؔ پہچانی نہ تھی

جیوتی آزاد کھتری

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے