بدلتے پہلو

بدلتے پہلو

کتنی دل کش ہوتی ہیں خوش فہمیاں

ختم ہونے سے پہلے

بڑے رنگین ہوتے ہیں خواب

بکھرنے سے پہلے

بہت حسین ہوتے ہیں پھول

مرجھانے سے پہلے

بے حد خوبصورت ہوتی ہے محبت

بے وفائی سے پہلے

ہر آغاز پہنچتا ہے انجام کو

ملن کا پیچھا کرتی ہے جدائی

دن کے پہلو میں رہتی ہے رات

اور زندگی کا دامن تھامے

سایہ سی چلتی ہے موت

زندگی کے اتار چڑھاؤ

دل پر چھوڑ جاتے ہیں نقش

اگر انسان کا بس چلتا

کیا وہ خوشی کے پل ہی نہیں چنتا

ایلزبتھ کورین مونا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی