عادتاً تم نے کر دیے وعدے

عادتاً تم نے کر دیے وعدے

عادتاً ہم نے اعتبار کیا

تیری راہوں میں بارہا رک کر

ہم نے اپنا ہی انتظار کیا

اب نہ مانگیں گے زندگی یا رب

یہ گنہ ہم نے ایک بار کیا

 

گلزار 

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا