عشق میں وہ مقام آنے لگے

عشق میں وہ مقام آنے لگے
بات بے بات مسکرانے لگے

جس زمانے میں جی رہا ہوں میں
اس کو آنے میں کچھ زمانے لگے

بے وفاؤں کا ذکر ہونے لگا
کاہے چہرہ ہو تم چھپانے لگے

جھک کے گرنے کی ہے تسلی کی
میں یہ سمجھا مجھے اٹھانے لگے

مر چکی ہے خیال کی چڑیا
آپ بے پر کی ہیں اڑانے لگے

محمد رضا نقشبندی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی