بول سکتے نہیں رواں شاید

بول سکتے نہیں رواں شاید
کاٹ ڈالی گئی زباں شاید

آگ تو آپ نے لگا دی ہے
اٹھنے والا ہے اب دھواں شاید

جس جگہ کوئی بھی نہیں رہتا
آپ موجود تھے وہاں شاید

ایک آسیب جس میں بستا ہے
دیکھ رکھا ہے وہ مکاں شاید

جس طرح دل سے کھیلتے ہیں رضا
اور کردیں گے وہ زیاں شاید

محمد رضا نقشبندی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی