وہ عنایت اگر نہ کرجاتا

وہ عنایت اگر نہ کر جاتا
عین ممکن تھا آج مر جاتا

بات پگڑی سے بڑھ گئی آگے
جیسے حالات تھے یہ سر جاتا

چار سو وہ بلائیں تھیں توبہ
تم نہ آتے اگر تو ڈر جاتا

میں نے دل سے تمہیں پکار لیا
اتنی جلدی نہ نامہ بر جاتا

نور آنکھوں کا بجھ گیا ہوتا
یہ بھی ممکن تھا سارا گھر جاتا

محمد رضا نقشبندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے