اب تک ہیں تخیل میں اتاری ہوئی زلفیں

اب تک ہیں تخیل میں اتاری ہوئی زلفیں
آتی ہیں نظر اس کی سنواری ہوئی زلفیں

پھر پیش میں نے کر دیا شانے کا سہارا
کندھوں پہ تری جب کبھی بھاری ہوئی زلفیں

دیکھے کہاں ہیں آپ نے بکھرے ہوئے بادل
یوں ہجر کے ناگوں کی وہ ماری ہوئی زلفیں

ہر کوئی گھٹا سر پہ تنی دیکھ رہا ہے
کس کس پہ بھلا انکی نہ طاری ہوئی زلفیں

دیکھا ہے کبھی باغ کوئی اجڑا ہوا سا
دیکھی ہیں کبھی آپ نے ہاری ہوئی زلفیں

محمد رضا نقشبندی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل