اس زمیں آفتاب سے باہر

اس زمیں آفتاب سے باہر
ایک دنیا ہے خواب سے باہر

ڈھونڈتا ہے مجھے حجاب میں وہ
اور میں ہوں حجاب سے باہر

گفتگو کر رہی ہے خاموشی
خامشی کے نصاب سے باہر

ایک پتّی تمہارے ہونٹوں پر
کھل رہی ہے گلاب سے باہر

مجھ میں اُتری ہوئی ہے شام کوئی
روز و شب کے حساب سے باہر

تجدید قیصر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل