عادتاً بے وفا ہے ,جانے دو

عادتاً بے وفا ہے , جانے دو
جو بھی رشتہ رہا ہے ,جانے دو

لَوٹ آؤ صدا نہیں دینا
جس طرف جا رہا ہے ,جانے دو

غم نہ کرنا کسی کی خفگی کا
جو بھی تم سے خفا ہے,جانے دو

میں تو سمجھی مزاق ہے لیکن
اُس نے سچ مچ کہا ہے جانے دو

لَوٹ کر آ گیا تو کہہ دینا
جس کی جو بھی خطا ہے ,جانے دو

کون جھکتا ہے کس کی چوکھٹ پر
کون کس کا خدا ہے , جانے دو

منزّہ سیّد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی