ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے

دل رسم و رہ شوق سے مانوس تو ہو لے

تکمیل تمنا کے لیے عمر پڑی ہے

چاہا بھی اگر ہم نے تری بزم سے اٹھنا

محسوس ہوا پاؤں میں زنجیر پڑی ہے

آوارہ و رسوا ہی سہی ہم منزل شب میں

اک صبح بہاراں سے مگر آنکھ لڑی ہے

کیا نقش ابھی دیکھیے ہوتے ہیں نمایاں

حالات کے چہرے سے ذرا گرد جھڑی ہے

کچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیں

قابلؔ غم دوراں کی ابھی دھوپ کڑی ہے

قابل اجمیری

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے