مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں

مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں

اب تری یاد کے حوالے ہیں

زندگی کے حسین چہرے پر

غم نے کتنے حجاب ڈالے ہیں

کچھ غم زیست کا شکار ہوئے

کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں

رہ گزار حیات میں ہم نے

خود نئے راستے نکالے ہیں

اے شب غم ذرا سنبھال کے رکھ

ہم تری صبح کے اجالے ہیں

ذوق خود آگہی نے اے قابلؔ

کتنے بت خانے توڑ ڈالے ہیں

قابل اجمیری

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل