دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے

دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے

آرزو کے نئے چراغ جلے

ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا

آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

لب پہ ہچکی بھی ہے تبسم بھی

جانے ہم کس سے مل رہے ہیں گلے

دل کے ان حوصلوں کا حال نہ پوچھ

جو ترے دامن کرم میں پلے

کون یاد آ گیا اذاں کے وقت

بجھتا جاتا ہے دل چراغ جلے

مصلحت سرنگوں خرد خاموش

عشق کے آگے کس کی دال گلے

قابل اجمیری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان