اس ادا سے مجھے سلام کیا

اس ادا سے مجھے سلام کیا
ایک ہی آن میں غلام کیا

لے گیا ننگ و نام اب مجھ سے
عشق نے آخر اپنا کام کیا

یارو اس گل بدن کے تئیں ہم نے
کل صبا سے یہی پیام کیا

ہم سے ملتے رہا کرو پیارے
چاہ میں گرچہ اپنا نام کیا

قصۂ جاں گداز اے آصفؔ
تھوڑی سی بات میں تمام کیا

آصف الدولہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے