کہاں یہ خون میں لَت پَت

کہاں یہ خون میں لَت پَت کمان سُوکھتی ہے
جو دیکھتے ہی پرندوں کی جان سُوکھتی ہے

مجھ ایسا شخص اگر تشنگیِ اہلِ وفا
رقم کرے تو قلم کی زبان سُوکھتی ہے

تری نگہ کی نمی مجھ تک آئے بھی کیسے !
ہَوا کی سانس کہیں درمیان سُوکھتی ہے

چمک دمک ہے ، مہک ہے مری ذرا کی ذرا
لہو کی لہر ہے ، سو کوئی آن سُوکھتی ہے

یہ اور بات کہ پہلے ہو اَبر سے سیراب
مگر زمین سے پہلے چٹان سُوکھتی ہے

اختر عثمان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا