اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے

اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے
آنسوؤں کو حدِ آداب میں رکھا ہم نے

پھر لہو میں ہے کوئی ذائقۂ بت شکنی
اتنے دن تک تجھے محراب میں رکھا ہم نے

تڑ تڑانے لگا بپھرے ہوئے تاروں کا جلوس
پاؤں کیا خیمۂ مہتاب میں رکھا ہم نے

یار سمجھے کہ وہی بے سر و سامانی ہے
اک ترا دھیان ہی اسباب میں رکھا ہم نے

اُس کی باتوں نے بھی بیلیں سی بنائیں سرِ دل
سو اُسے بھی صفِ احباب میں رکھا ہم نے

اختر عثمان​

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا