دھب ہے ، کہنے سے یہ سب

دھب ہے ، کہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے
بیٹھے رہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے

یوں ہو تو ہر کسبی انت سہاگن ٹھہرے
گجرے ، گہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے

کچھ کچھ بات کرو ، جی بہلے ، سکتہ ٹوٹے
چپ چپ سہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے

جینا ہے تو جی کی جولا جل میں پھینکو
بھتیرے بہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے

کُن کہنا ، اور کر کے دکھانا ہے فنکاری
سب کے کہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے

گرتے گرتے کچھ احساس دلاؤ اخترؔ
من میں ڈھہنے سے یہ سب تھوڑی ہوتا ہے

اختر عثمان

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل