بسمل کسی کو رکھنا

بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے
اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے

زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے
گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے

اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب
میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں ہے

مرتے ہیں ہم تڑپتے پھرتے ہو تم ہر اک جا
جانا کہ تم کو ہم سے کچھ مدعا نہیں ہے

تب سن کے شوخ دل کش جھنجھلا کے کہنے لاگا
کیا وضع میری آصفؔ تو جانتا نہیں ہے

آصف الدولہ

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا