جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے
ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے

تیرے کوچے میں نقش پا کی طرح
ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے

شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم
ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے

ایک دن میں نے یار سے یہ کہا
اب تو ہم طاقت و تواں سے گئے

ہنس کے بولا کہ سن لے اے آصفؔ
یہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے گئے

آصف الدولہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا