دام الفت میں پھنسا دل ہائے

دام الفت میں پھنسا دل ہائے دل افسوس دل
اب نہ ہووے گا رہا دل ہائے دل افسوس دل

وہ اسے کیا کیا کہے اور یہ سرکتا ہی نہیں
ہو گیا یوں بے حیا دل ہائے دل افسوس دل

ملتے ہی ظالم نے مجھ کو چھوڑ کر یوں یک بیک
ہو گیا مجھ سے جدا دل ہائے دل افسوس دل

آہ و نالے کی صدا بھی اب تو آنے سے رہی
مر گیا شاید مرا دل ہائے دل افسوس دل

کس طرح اس سے بنے گی ہے بہت وہ بے وفا
اور مرا ہے با وفا دل ہائے دل افسوس دل

میں نے کتنا دل کو سمجھایا کہ اب بھی عشق سے
باز آ دل باز آ دل ہائے دل افسوس دل

سو نہ مانا دل نے اور سودے میں آخر عشق کے
یوں دوانہ ہو گیا دل ہائے دل افسوس دل

چھوڑ کر میرے تئیں اور پاس ظالم کے رہے
اور سہے جور و جفا دل ہائے دل افسوس دل

پھر تو آصفؔ غیر سے کس بات کی کیجے امید
جب کہ اپنا دے دغا دل ہائے دل افسوس دل

آصف الدولہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے