ہاتھ رکھو یہیں اداسی ہے

ہاتھ رکھو یہیں اداسی ہے
یہ مرا دل نہیں اداسی ہے

ابتدا میں تو اتنا خوش مت ہو
مجھ میں آگے کہیں اداسی ہے

تو بھی اتنا نہیں قریب مرے
جتنی دل کے قریں اداسی ہے

دیکھ اس حسن سوگوار طرف
دیکھ کتنی حسیں اداسی ہے

اس پہ قصر خوشی نہ ٹھہرے گا
میرے دل کی زمیں اداسی ہے

رنج و بہجت تو بعد کے ہیں گماں
میرا پہلا یقیں اداسی ہے

آنکھ یا پھیلتا ہوا کاجل
شام یا سرمگیں اداسی ہے

تم اداسی کو دیکھ سکتے ہو
میں جہاں ہوں وہیں اداسی ہے

شہزاد نیّرؔ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے