ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا

جیسے کسی مورت کو دفینے سے نکالا
اک خواہشِ ناکام کو اس کو چۂ دل سے
بدلے تیرے تیور تو قرینے سے نکالا
پاؤں تری دہلیز پے رکھنے کے سزاوار
تونے جنہیں تکریم کے زینے سے نکالا
سکہ نہیں چلتا تری سرکار میں ورنہ
کیا کیا نہ ہنر ہم نے خزینے سے نکالا
ہم ایسے برے کیا تھے کے نفرت نہ محبت
رکھّا نہ کبھی پاس نہ سینے سے نکالا
ٹھوکر میں طلب کی رہے ہر عمر میں ہم جان
یوں جیت کے مفہوم کو جینے سے نکالا

اوریا مقبول جان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے