ہر حقیقت کو گماں تک سوچوں

ہر حقیقت کو گماں تک سوچوں
میں بہاروں کو خزاں تک سوچوں

گفتگو تلخ حقائق سے بھی ہو
خواب ہی خواب کہاں تک سوچوں

ہر قدم ایک معمہ بن جائے
زندگی تجھ کو جہاں تک سوچوں

سوچ بن جاتی ہے گرداب بلا
ایک ہی بات کہاں تک سوچوں

حد پرواز مری اتنی ہے
لا مکاں کو بھی مکاں تک سوچوں

دسترس کس کی مداوا کیسا
درد کو صرف فغاں تک سوچوں

ناپوں جذبوں کو بھی پیمانوں سے
اشک کو آب رواں تک سوچوں

تو نہیں پاس تری یاد تو ہے
تو ہی تو سوجھے جہاں تک سوچوں

خاطر غزنوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے