کس سمت لے گئیں مجھے

کس سمت لے گئیں مجھے اس دل کی دھڑکنیں
پیچھے پکارتی رہیں منزل کی دھڑکنیں

گو تیرے التفات کے قابل نہیں مگر
ملتی ہیں تیرے دل سے مرے دل کی دھڑکنیں

مخمور کر گیا مجھے تیرا خرام ناز
نغمے جگا گئیں تری پائل کی دھڑکنیں

لہروں کی دھڑکنیں بھی نہ ان کو جگا سکیں
کس درجہ بے نیاز ہیں ساحل کی دھڑکنیں

وحشت میں ڈھونڈتا ہی رہا قیس عمر بھر
گم ہو گئیں بگولوں میں محمل کی دھڑکنیں

لہرا رہا ہے تیری نگاہوں میں اک پیام
کچھ کہہ رہی ہیں صاف ترے دل کی دھڑکنیں

یہ کون چپکے چپکے اٹھا اور چل دیا
خاطرؔ یہ کس نے لوٹ لیں محفل کی دھڑکنیں

خاطر غزنوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان