الجھے الجھے دھاگے دھاگے

الجھے الجھے دھاگے دھاگے سے خیالوں کی طرح
ہو گیا ہوں ان دنوں تیرے سوالوں کی طرح

اپنے دل کی وسعتوں میں ہر طرف بھٹکا پھرا
بے کراں مبہم سرابوں میں غزالوں کی طرح

یہ مرا احساس ہے یا جبر موسم کا اثر
اب کی رت مہکے نہیں گل پچھلے سالوں کی طرح

عصر حاضر کی جبیں پر تلخیاں کندہ ہوئیں
تن گئے حالات اپنے گرد جالوں کی طرح

دشت غم میں آندھیوں کے دار سہنے کے لیے
خشک پتے اٹھ رہے ہیں آج ڈھالوں کی طرح

ظلمت مغرب کو خاطرؔ کوئی یہ پیغام دے
ہم بھی اب ابھریں گے مشرق سے اجالوں کی طرح

خاطر غزنوی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا