تجھ سے مل کر اس قدر

تجھ سے مل کر اس قدر اپنوں سے بیگانے ہوئے
اب تو پہچانے نہیں جاتے ہیں پہچانے ہوئے

بت جنہیں ہم نے تراشا اور خدائی سونپ دی
آ گئے ہیں سامنے پتھر وہی تانے ہوئے

خلق کی تہمت سے چھوٹے سنگ طفلاں سے بچے
خوب تھے وہ لوگ جو خود اپنے دیوانے ہوئے

اس کو کیا کہئے کہ ہم ہر حال میں جلتے رہے
دوریوں میں چاند تھے قربت میں پروانے ہوئے

اپنی صورت میں بھی خاطرؔ ایک گونہ سحر تھا
آئنہ خانوں میں فرزانے بھی دیوانے ہوئے

خاطر غزنوی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا