فریاد بن گئے کبھی خاموش رہ گئے

فریاد بن گئے کبھی خاموش رہ گئے
ہر رنگ اہل درد حکایات کہہ گئے

کچھ واردات دل کہ زباں تک نہ آ سکے
کچھ سانحات درد کہ ناگفتہ رہ گئے

ہم سے ھمیشہ درد مشیت نے کھائی مات
ہر تیر حادثات کو ہم ہنس کے سہہ گئے

کچھ اشک خوں تھے جو سر مژگاں جمے رہے
کچھ لخت دل تھے آنسوؤں کے ساتھ بہہ گئے

بلبل بہ چشم نم ہے چمن سے بہت ہی دور
پھولوں کے ساتھ کانٹوں کے افسانے رہ گئے

منزہ انور گوئیندی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا