کرتے ہیں گزر مثل قمر

کرتے ہیں گزر مثل قمر وادئ شب سے
ہم ساتھ بھی سب کے ہیں مگر دور بھی سب سے

آتش کوئی درکار ہے نغمہ ہو کہ لالہ
پگھلیں تو یہ ٹھہری ہوئی راتیں کسی ڈھب سے

بجلی تو کوئی ٹوٹے کوئی شعلہ تو لپکے
آغوش نظر وا کیے ہم بیٹھے ہیں کب سے

اے کاہش غم دم تو ذرا لینے دے ہم کو
بس لوٹ کے آئے ہیں ابھی شہر طرب سے

پابندئ آداب جنوں شیوہ ہمارا
کب بیٹھ سکے ہم تیری محفل میں ادب سے

کیا روئیے محرومئ دامان طلب کو
یہ دل بھی تو واقف نہیں کچھ حسن طلب سے

ہم لوگ تو اپنے ہی زمانے کی زباں ہیں
کیا کام ہمیں منصب و اعزاز و لقب سے

منزہ انور گوئیندی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی