خاموشیوں کے بانے مجھے

خاموشیوں کے بانے مجھے کہہ رہی ہے کیا
تھم تھم کے تیرے شہر سے آتی ہوئی ھوا

تیری گلی سے آج جو میرا گزر ہوا
ہر ذرہ مسکرا کے مجھے دیکھنے لگا

یوں خامشی سے فصل بہاراں گزر گئی
جیسے کہ گلستاں میں کوئی منتظر نہ تھا

پھر زلف شام دوش فضا پر بکھر گئی
پھر اک چراغ دل کے شبستاں میں جل اُٹھا

میری مجال کیا کہ شکایت بھی کر سکوں
اے چشم نم مجھ پہ تیرا ہر ستم روا

منزہ انور گوئیُندی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا