دل کا لہو چراغ وفا میں جلائیے

دل کا لہو چراغ وفا میں جلائیے
سورج ڈھلا ہے جشن شب غم منائیے

برسوں کا یہ سکوت ہے آتش فشاں پہاڑ
دل غم سے پھٹ نہ جائے ذرا مسکرائیے

وہ روشنی کا شہر کہیں واہمہ نہ ہو
جنگل گھنا ہے تھک کے یہیں بیٹھ جائیے

بہتی ہے زیر سنگ لطافت کی سرد جھیل
جلتا ہے جسم دھوپ سے تیشہ اُٹھائیے

ہر سمت ایک کرب مقابل ہے دوستو
صحرا کی آندھیوں سے کہاں بچ کے جائیے

اُڑتی ہے دھول چشمہ آب حیات میں
زہراب غم سے پیاس جگر کی بجھائیے

اپنا خلوص بھی دُر یکتا سے کم نہیں
لیکن کسی کے مکر و ریا پر نہ جائیے

منزہ انور گوئیندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے