فقیر

تماشا ختم ہونے تک
رکوں گا
ترے ہاتھوں سے بہتی
روشنی کی بوند
گرنے تک
مجھے اس دھوپ میں رکنا
پڑا تو
میں رکوں گا
ستارے رات بھر جو آسماں
پر ٹمٹماتے ہیں
ہمیشہ دسترس سے دور
ہوتے ہیں
مگر جب دن نکلتا ہے
ترے جیسے فلک
کے ہاتھ آتے ہیں
مرے جیسوں کو دِکھتے ہیں
ذرا میری زمیں کو دیکھ سائیں
ستارہ پھینک سائیں

عمران سیفی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے