ارادہ

اگر شام ہونے سے پہلے

چراغاں کرو گے

تو لو میں کوئی عکس

کیسے دِکھے گا

اگر فیصلہ کر چُکے ہو

کہ شب کے بنائے گئے

سارے قانون

توڑو گے اور

صبحِ تازہ تلک

ان کہی داستانوں

پہ پہرہ دیے جانے پر

احتجاجاً محبت کی

قربانی دو گے

تو پھر جان لو

عشق تاریک راہوں میں

پھر راہزن ہجر

کے ساتھ مل کر

تمہیں لوٹ لے گا

سو بہتر یہی ہے

کہ تم اپنے سارے ارادوں

کو اب ملتوی کر کے

بس عشق کے ہی

ارادے پہ بیعت کرو

عمران سیفی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی