دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا

شناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہنا

اگر میں آؤں گا صدیوں کی عمر لاؤں گا

کہ تیرے پاس مجھے مختصر نہیں رہنا

یہ کائنات مری انگلیوں پہ ناچتی ہے

مجھے ستاروں کے زیر اثر نہیں رہنا

میں جانتا ہوں مگر دل کو کون سمجھائے

شناسؔ اس کو مرا ہم سفر نہیں رہنا

فہیم شناس کاظمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے