حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا

کیسا ہوتا ہے خدا تم کو میں دکھلا سکتا

اس سفر پہ ہوں کہ ہلکان ہوا جاتا ہوں

اور کہاں جانا ہے یہ بھی نہیں بتلا سکتا

ہارنا بھی ہے یقینی پہ مری فطرت ہے

ایک ہی چال ہمیشہ نہیں دہرا سکتا

زندگی اب تو مجھے اور کھلونے لا دے

ایسے خوابوں سے تو میں دل نہیں بہلا سکتا

میں بھی تقدیر کے لکھے پہ یقیں لے آتا

وقت اک بار جو اس سے مجھے ملوا سکتا

 

فہیم شناس کاظمی 

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا