بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

پھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیا

تھکن سمیٹ کے صدیوں کی جب گرے خود پر

تجھے خود اپنے ہی اندر سے بازیاب کیا

پھر اس کے بعد ترے عشق کو لگایا گلے

ہر ایک سانس کو اپنے لیے عذاب کیا

اگر وجود میں آ کر اسے نہ ملنا تھا

ہمیں کیوں بھیج کے اس دہر میں خراب کیا

اسی نے چاند کے پہلو میں اک چراغ رکھا

اسی نے دشت کے ذروں کو آفتاب کیا

 

فہیم شناس کاظمی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا