دل کے جذبات کو سستا

دل کے جذبات کو سستا نہیں کرنا صاحب
دیکھ عجلت میں یہ سودا نہیں کرنا صاحب

بیچ رستے میں دغا دے کے چلا جاتا ہے
اس بھروسے پہ بھروسہ نہیں کرنا صاحب

یہ تو ہم تھے کہ اٹھا لائے ہیں دل کے ٹکڑے
پر کسی اورسے ایسا نہیں کرنا صاحب

لوگ پڑھ لیتے ہی۔ آنکھوں سے کہانی ساری
اس قدر بھی اُسے سوچا نہیں کرنا صاحب

عشق آداب کے پردے میں بھلا لگتا ہے
دیکھ کر بھی اُسے دیکھا نہیں کرنا صاحب

سیدہ صائمہ کامران

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا