محبتوں کے تعلق میں

محبتوں کے تعلق میں اعتبار کا دکھ
کسی سے پوچھ تسلی سے اعتبار کا دکھ

مجھے تو اپنے قبیلے کے عیب ڈھکنے پڑے
بڑے عذاب میں رکھتا ہے اقتدار کا دکھ

کیے ہیں فیصلے ایسے جو میرے تھے ہی نہیں
تجھے سمجھ نہیں آئے گا اختیار کا دکھ

ہمیں تو چھاؤں سے مطلب رہا درختوں کی
کبھی سنا ہی نہیں شجرِ سایہ دار کا دکھ

اتر گئ ہے سفیدی لہو میں اندر تک
تماشا لگنے لگا ،اپنے رشتے دار کا دکھ

ترے دغا پہ جوابا دغا تو بنتا تھا
تمام عمر رہے گا اسی ادھار کا دکھ

یہ صائمہ یونہی پگلی ہوئی نہیں پھرتی
حضور آپ کیا جانیں کسی کے پیار کا دکھ

سیدہ صائمہ کامران

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی