مجھے خبر ہے کہ پلکیں بھگونے والا ہے
وہ سانحہ جو مرے ساتھ ہونے والا ہے
اداسیوں میں یہ بارش بھی خوب لگتی ہے
ہزار شکر کوئی ساتھ رونے والا ہے
جگا رہا ہے ہمیں داستاں سنا کے جو
وہ قصہ گو بھی بہت جلد سونے والا ہے
سنو سنبھل کے ذرا سامعینِ محفل سب
غزل میں آج وہ موتی پرونے والا ہے
تجھے تو ہجر کا نقصان بھی نہیں معلوم
تجھے خبر ہی نہیں کس کو کھونے والا ہے
اے ناخدا تجھے اتنا ضرور کہنا ہے
تُو اپنے ہاتھ سے کشتی ڈبونے والا ہے
یہ کیفیت تو نئ سی ہے صائمہ شاید
خدا بچائے تجھے پیار ہونے والا ہے
سیدہ صائمہ کامران