ہوا کے دوش پہ بادل بنا کے

ہوا کے دوش پہ بادل بنا کے چھوڑ دیتا ہے
مجھے لگتا ہے وہ پاگل بنا کے چھوڑ دیتا ہے

وہ رکھتا ہے بڑے ہی پیار سے ہر زخم پہ مرہم
پھر اپنے پیار کا گھائل بنا کے چھوڑ دیتا ہے

وہ خود ہی رقص کرتی ہے چھنا چھن چھن چھنا چھن چھن
وہ کاغذ پر فقط پائل بنا کر چھوڑ دیتا ہے

گماں کو بدگمانی کے اثر میں مت بدلنے دو
یہ دل کے راستے ،دلدل بنا کے چھوڑ دیتا ہے

عجب جادوگری ہے صائمہ اس کی نگاہوں میں
وہ کالی رات کو کاجل بنا کے چھوڑ دیتا ہے

سیدہ صائمہ کامران

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے