دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھو

دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھو

دہر یہ اپنا خسارا سمجھو

یہ بھی ممکن ہے کہ تم دور کے لوگ

اس الاؤ کو ستارہ سمجھو

یہ بھی اک موج ہے مٹی کی سہی

وقت کم ہے تو کنارا سمجھو

پر نہیں ہوتے خیالوں کے تو پھر

کیسے اڑتے ہیں غبارا سمجھو

کسے معلوم خزانہ مل جائے

کوئی نقشہ تو دوبارہ سمجھو

کھیت رل جائیں گے پاگل پن میں

جنگ کیسی مجھے ہارا سمجھو

ادریس بابر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے