اور وحشت ہے ارادہ میرا

اور وحشت ہے ارادہ میرا

حق ہے صحرا پہ زیادہ میرا

تو یہی کچھ ہے وہ دنیا یعنی

ایک متروک ارادہ میرا

رات نے دل کی طرف ہاتھ بڑھائے

یہ ستارا بھی ہے آدھا میرا

آب جو میں تو چلا جلدی ہے

اک سمندر سے ہے وعدہ میرا

دھول اڑتی ہے تو یاد آتا ہے کچھ

ملتا جلتا تھا لبادہ میرا

ادریس بابر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا