چھوٹا ہُوا ہوں غم کے

چھوٹا ہُوا ہوں غم کے، خوشی کے، عذاب سے
رہتا ہوں جب سے اپنے جنوں کے حساب سے

آزاد ہو کے کیوں نہ مَیں دیکھوں خود اپنا آپ
کب تک بندھا رہوں یونہی تعبیر و خواب سے

اندیشے اس طرح سے جُڑے ہیں خیال سے
وابستہ جس طرح سے ہیں کانٹے گلاب سے

کب تک ذلیل و خوار، رہیں گے ذلیل و خوار
معلوم کیجئے کسی عزّت مآب سے

کچھ اس لیے بھی سادہ ورق دل کا رہ گیا
اُمّید اُٹھ گئی تھی تمنا کے باب سے

اتنی قیامتوں سے گزرتا ہوں ہر گھڑی
جی اُٹھ گیا ہے میرا عذاب و ثواب سے

عمران ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے