تمہارا بدن میرا احساس ہے

تمہارا بدن میرا احساس ہے
یہی اِک ٹھکانہ مجھے راس ہے

کہیں تیرے لب سا نگینہ نہیں
زمرّد ہے یاقوت و الماس ہے

تری جستجو ہُوں اگر مَیں ہی مَیں
مِری بھی تو اِک تُو ہی اَرداس ہے

مہکتا ہُمَکتا مِرا تَن بدن
ترا لُطف ہے تیری بُو باس ہے

مرا باغ اُجڑا نہیں ہے ابھی
تُو میرے لیے ہے ، مِرے پاس ہے

وَرا ہر خوشی سے ہر اِک درد سے
تری آرزو ہے تری آس ہے

تمنّا کا صحرا ابھی تَر کہاں
ابھی دُور تک پیاس ہی پیاس ہے

جُدا بھی بندھے بھی بدن ڈور سے
میں تیرا لَہو تو مِرا ماس ہے

جگاتا اُٹھاتا قیامت کوئی
ترا لَمس بھی کتنا حسّاس ہے

عمران ہاشمی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا