جانے دیتا ہوں جہاں

جانے دیتا ہوں جہاں جانے کا مَن ہوتا ہے
دل کا اپنا بھی بہلنے کا چلن ہوتا ہے

اس لیے بھی میں ہر اِک رنگ پہ ہوتا ہوں فِدا
جانے کس رنگ میں البیلا سجن ہوتا ہے

تُو تو قِرطاس پہ ہوجاتا ہے ہونے میں مگن
اِک مصور ترے اعضا میں مگن ہوتا ہے

ایک ہنگامہ بپا رہتا ہے آنکھوں کا وہاں
جس گلی میں بھی کوئی شوخ بدن ہوتا ہے

عمران ہاشمی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا