بہت کی ہے میں نے بھی بخت آزمائی

بہت کی ہے میں نے بھی بخت آزمائی
مگر راس آئی تو مجھ کو گدائی

میاں جاؤ رہنے بھی دو پارسائی
کہاں کے بڑے اور کہاں کی بڑائی

محبت سے جب آشنائی نہیں ہے
تو کس کام کی یہ پڑھائی لکھائی

جو تیری اسارت کا لُطف آشنا ہے
بھلا کیوں کرے وہ دعائے رہائی

مرے مُدّعی نے بہت زور مارا
مگر بے گناہی مِرے کام آئی

جبینِ محبت کی تقدیر بدلے
ترے آستاں تک اگر ہو رسائی

ولیؔ داغِ دل آپ کہتے ہیں جس کو
وہی ہے مِری عمر بھر کی کمائی

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان