چاہے جتنا بھی پٹک لے سر کوئی

چاہے جتنا بھی پٹک لے سر کوئی
اذنِ حق ہی سے کھُلے گا در کوئی

روبرو ہو جب نگارِ آرزو
کیوں تراشے خواب کا پیکر کوئی

کوئی باہر رہ کے بھی گھر میں رہا
گھر میں رہ کر بھی رہا باہر کوئی

میرے دل میں آ کے بن بیٹھا صنم
ٹھوکریں کھاتا ہوا پتھّر کوئی

جب کبھی بھی ٹھوکریں کھاتا ہوں میں
یاد آتا ہے مجھے اکثر کوئی

میں کہ خلوت میں بہت مصروف تھا
چیختا ہی رہ گیا باہر کوئی

اشک ہوں میں، بے گھری تقدیر ہے
کب خوشی سے چھوڑتا ہے گھر کوئی

لے کے آئی ہے کہاں قسمت ولیؔ
کوئی منظر ہے، نہ پس منظر کوئی

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی