سن تو سہی

الزام لگانے والے سن
ہم وہ تو نہیں جو تم سمجھے
ہم بھی تو دلاسا دیتے تھے
تری چارہ گری سے بکھرے ہیں
ہم روئے نہیں دکھ سہنے سے
ہم ٹوٹے نہیں دکھ سہنے سے
لگتا تھا جنہیں ہم ٹوٹیں گے
اور ہاتھ ہمارے چھوٹیں گے
سو دیکھ لو آکر اب ہم کو
ہم ہارے نہیں ہم بکھرے کیا ؟
جو ظلم کرے وہ نکھرے کیا ؟

 

عائشہ قمر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی